قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

سورۃ الشمس کی یہ آیات ان آیات میں سے ہیں جنہوں نے پہلی دفعہ شعوری طور پر پڑھنے پر ہی میرے دل کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کیا ۔ کوئی گیارہ سال پہلے یہی آیات قرآن میں میری انسپریشن رہ چکی ہیں یعنی کہ جن آیات نے مجھےقرآن میں موجود آیات میں سے […]

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

Credit: https://tayyabaat.com

خیال

خیال

آ بیٹھ، اِک دل کی بات بتاؤں تجھے
دیوانہ وار اک افسانہ سناؤں تُجھے

ایک کالی نگری میں دور کہیں چمکتا ہوا
اپنی کھڑکی میں چاند کی طرح سجاؤں تُجھے

پھر باتیں ہوں پریوں کی بھی یوں جیسے
کسی حور کی نزاکت کی ادا بناؤں تُجھے

کبھی پھولوں میں مچلتی اک تتلی بنا دوں
کبھی دریا میں کاغذی کشتی کی طرح بہاؤں تُجھے

کبھی پتھر سے تراشا اک مجسمہ تیار کردوں
کبھی ریت پہ لکھے نام کی طرح مٹاؤں تُجھے

کبھی سخنِ دل کی سی لڑیوں میں پرو دوں
کبھی پُرسوز اِک نغما بنا کر گنگناؤں تُجھے

کبھی فخر سے تنہائی میں لکھ کر خود ہی تیری پزیرائی کروں
تو کبھی محفلوں میں بھی لوگوں سے چھپاؤں تّجھے

تُجھسے شکوہ ہے کہ، کیسے کیسے نہ تُو نے بہکایا ہے مجھے
تُجھسے محبت تو اتنی ہے کہ، جو چاہوں ویسا ہی بناؤں تُجھے

مسئلہ صرف اتنا ہے کہ لا وجود، اک 'خیال' ہے تُو میرا
کوئی حقیقت ہو اگر تو کیا کیا نہ بتاؤں تُجھے

اِک لمحہ

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں
یہ رنگوں سے بھری دنیا
جِسکے سب رنگ سنہرے ہیں
یہ اپنے رنگ کھو بیٹھے
جنّت بھی جہنّم بھی

نہ نوری ہو نہ ناری ہو
ختم موت و حیات کی بیزاری ہو
نہ کبھی کوئی خطا سرزد ہو
اور ہر شر سے نَفَس بھی آری ہو
پھر کیا ہو اگر جو وقت منجمد ہو
اِک لمحے میں قید ذات و حیات ساری ہو
وہ اِک لمحہ غنیمت ہے

وہ اِک لمحہ فراغت کا
کہ جس میں یادِ یارانہ
کرے مجھکو یوں مستانہ
وہ اِک لمحہ عبادت کا
کرے سب سے ہی بیگانہ
گر عِشق یہ لمحہ عطا کردے
میں عاشق ہوں، میں دیوانہ
وہ جو ماسوا سب سے
بس اِک لمحہ عطا کردے

وہ اِک لمحہ غنیمت ہے
وہ اِک لمحہ غنیمت ہے۔۔

______________________________________________
۱۲/۰۶/۲۰۲۰

‘یادیں’

تمہاری یاد ہی تو ہے

تمہیں میں یاد نہیں شاید
میں تمہیں مگر، روزانہ یاد کرتا ہوں

تمہاری غیر موجودگی میں
تمہاری یادوں کے شہر سے روز گزرتا ہوں

سنو! تمہاری یادیں بہت ستاتی ہیں
،گھر کا رستہ بند کر کے
شہر سے بھی مجھے بھگاتی ہیں

میں جاؤں بھلا تو کہاں جاؤں
جو راہیں میرے آگے ہیں
وہ راہیں مجھے ڈراتی ہیں

یہی رستے اب میرا گھر ہیں۔۔ شاید
میں بے منزل اب اِک مسافر ہوں

،میں جتنا بھی قریب ہونا چاہوں
انہیں میں غیر لگتا ہوں

دیکھو زرا! تمہاری یادیں بھی
تمہاری طرح امتیازی ہیں

کہ تمہاری یادیں یہ کہتی ہیں
وہ مسلماں ہیں، میں کافر ہوں

میں دیکھو کتنا بےبس ہوں
جو مِل نہیں سکتے تم تو
تمہاری یادوں سے پیار کرتا ہوں

تمہیں میں یاد نہیں شاید
میں تمہیں مگر، روزانہ یاد کرتا ہوں

بلا عنوان

میں پستی سے ہی اٹھایا گیا
میں پستی پہ ہی آ گرا

میرے پر نہیں کہ میں اُڑ سکوں
میرا دھڑ نہیں کہ میں چل سکوں

میں تو سوچ ہوں اِک گمشدہ
میں ہوں بھی تو میرا ہونا کیا

میرے ہونے نہ ہونے سے کسے غرض ہے
میری زندگی کا یہی رمز ہے

کہ میں خود میں ہی لا پتا
کہ میں خود سے ہی نا آشنا

“کبھی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے”

کبھی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
کہ سفید سیاہ، اور کالا رنگ گورا ہو جاۓ

کہ جو اچھا ہے بُرا ہو جاۓ
جو بدصورت ہے وہ حسیں ہو جاۓ

کہ زمین آسماں اور آسماں زمین ہو جاۓ
کہ بادشاہ فقیر اور غریب تخت نشین ہو جاۓ

کہ جو دور ہے ہم سے وہ قریں ہو جاۓ
جن کو بھاتی نہ تھی اک نظر، وہ دل میں مکیں ہو جاۓ

کبھی ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
کہ کالا رنگ گورا۔۔۔ اور سفید سیاہ ہو جاۓ

~MOS

“میں مرنا چاہتا ہوں”

موت خود مرنا چاہتی ہے۔
مگر اُسکی بےبسی دیکو، اُسکا صبر دیکھو۔
تم بےبس نہیں ہو لیکن، تم بھی زرا صبر کرلو۔


میں جانتا ہوں زندگی ابھی بے مقصد سی ہے،
بے معنی ہے۔ اور مرنے کی خواہش ہے بہت۔
لیکن خواہشات کا مرنا ہی خُدا کی اصل عبادت ہے۔
تُم بھی اِس اِک خواہش کو ختم کرلو۔۔۔ صبر کرلو۔


 

اِک ادھوری محبت کے نام کچھ ادھورے اشعار۔۔۔

وہ جو سہرا کی کڑی دھوپ میں

بیچ راہ اِک چھاؤں تھی ادھوری سی

وہ جو زندگی کے اِس کھیل میں

جینے کی اِک آس تھی ادھوری سی

وہ جو جامِ سُخن پی کر بھی

ترے دو اشعار کی پیاس تھی ادھوری سی

اِس زرد زمانے سے کہیں پرے

وہ جو تیرے ہونے کے خیال سے

اِک نکھار تھی ادھوری سی

مرے رہ گزر، مرے ہمسفر

میری زندگی کے سفر میں جب

تُم دور سے ہی مُنہ موڑ کر۔۔۔ گزر گئے

وہ ساتھ جینے مرنے کے، وعدے سارے توڑ کر

جب مجھے تنہا کر گئے

مرے سارے ادھورے خواب و خیال کانچ سے۔۔۔ بکھر گئے

حالتِ بے اختیاری

تیرے بن اے زندگی، کیا جئیں
تُجھ بن مرنا بھی لیکن محال ہے

کر کے ظلم سبھی پر، کرتی ہے سب سے انصاف
واہ رے زندگی ترا بھی کیا کمال ہے

آ بیٹھیں ہیں اُنکی چوکھٹ پہ اب
اور بھی ہیں جہاں بیٹھے ہوئے

طلوع قسمت جہاں ہے ہوتی
کہ ہوتا جہاں پستی کا زوال ہے

پہنچ کر عروج پر،
نہ کی تُونے وفا کی پاسداری
شکوے بھی پھر تُو خود ہے کرتا
بتا ترا اپنے بارے، کیا خیال ہے

پا کر جو تُو چاہتا تھا اے دِل
کی بے وفائی تُونے ہی تو ہے اویس
پھر ترے وہی طور طریقے
پھر ترا وہی حال ہے

میرے چارہ گر

Healer/Curer -چارہ گر

فلک سے ستاروں تک
سمندر کے کناروں تک

سُکون و امن و اماں سے لے کر
لہو میں جلتے شراروں تک

میں ہر دُکھ درد جھیل لوں گا
اپنی پوری سکت کے ساتھ

میں ہر الزام بھی اپنے سر لوں گا
اپنی مکمل جرآت کے ساتھ

مگر اس سے پہلے کہ تم مجھے ترک کرو
اور قبل اس سے کہ مجھے غرقٍ خونٍ آب کرو

کم از کم میری اٍک آخری التجاء تو سنو
وگرنہ ہمیشہ کے لیے مجھے غمگین کر چلو

اس لیئے نہیں کہ تم مجھے چھوڑ گئے
بلکہ اٍس لیے کہ میں تمہارا جانا سمجھ نہ پاؤں گا

میں خود ہی کو مُجرٍم سمجھوں گا
خود کو ہی بےوفا ٹھہراؤں گا

تم جاتے جاتے بتاتے چلو
کیا ہوا ہمارے اُن پیار کے سچّے ارادوں کا

جو توڑ نبھانے کے عہد کیۓ تھے
کیا مول ہوا اُن وعدوں کا

مجھے چھوڑ کر جانے والے او چارہ گر
تیرا شکریہ، تُونے جو احساں کیا

دٍل چیر کر سہی تُونے مگر
اٍس دٍل کو اصل میں ژندہ کیا

 

[ An attempt at rewriting/translating my own poem in Urdu.
Original one here: “A Lesson” ]
Please leave some feedback if you like it =)